سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتےہیں ؎
اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔ اردو اپنی ساخت، ذخیرہ الفاظ اور ہیئت کے اعتبار سے ایک ایسی زبان ہےکہ جس پر جتنا فخر کیا جاۓ کم ہے۔ اِس زبان میں اظہارِ خیال کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ اردو زبان میں دوسری زبان کے الفاظ کو اپنے اندر ضم کرنے کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نے اردو کی مقبولیت اور صلاحیت کے پیشِ نظر اسے پاکستان کی قومی زبان بنانا منظور کیا لیکن اردو زبان کو آج تک پاکستان میں وہ مقام حاصل نہ ہو سکا جس کی یہ حقدار ہے۔
اردو زبان پر انگریزی کے اثرات آج مرتب نہیں ہوئے۔ جب برصغیر پر انگریزوں کی حکومت قائم ہوئی تو انگریزی تہذیب کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان کے اثرات بھی برصغیر پر رونما ہوئے۔ انگریزوں نے فورٹ ولیم کالج قائم کیا اور اس کے تحت کئی اہم کتابوں کے تراجم کرائے جس سے برصغیر کے دانشوروں کو انگریزی زبان پڑھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ مزید برآں علی گڑھ تحریک کے زیر اثر سرسید احمد خان نے سائنٹفک سوسائٹی قائم کی جس کے تحت سائنس اور دیگر علوم کی شہرہ آفاق کتابوں کے تراجم کرائے گئے۔ جس سے انگریزی زبان سے واقفیت میں مزید اضافہ ہوا۔
اسی طرح اردو زبان میں انگریزی کے تراجم کے دوران بعض اصطلاحات کو انگریزی میں ہی استعمال کرنا پڑا جیسے فیڈریشن، اسٹوڈنٹ، لیکچر وغیرہ۔ اس طرح اردو زبان میں انگریزی زبان کے الفاظ کی شمولیت کی ابتداء ہوئی۔ اس کے بعد برصغیر میں اردو زبان کے ادیبوں میں بھی انگریزی زبان نے مقبولیت حاصل کی اور انہوں نے اپنے مضامین میں انگریزی زبان کا استعمال کرنا شروع کر دیا کیا اور پھر انگریزی زبان کے الفاظ کا استعمال اردو میں رائج ہو گیا۔ اردو ادب پر انگریزی کے اثرات کی بدولت لوگوں نے بول چال میں بھی انگریزی زبان کے الفاظ کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔
اس وقت پاکستان میں اردو زبان سے زیادہ انگریزی زبان کو مقبولیت حاصل ہے۔ اور یہ مقبولیت تمام صوبوں میں یکساں ہے۔ حتیٰ کہ قومی شناختی کارڈ کا اجراء بھی انگریزی زبان میں ہوتا ہے۔ لوگ اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ انہیں انگریزی بولنا آتی ہے۔ عام گفتگو میں لوگ اردو کے ساتھ انگریزی کے الفاظ ملا کر بات کرتے ہیں۔ درس و تدریس کے شعبے میں بھی اساتذہ مکمل انگریزی زبان کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔ دورِ حاضر میں اردو زبان میں انگریزی کے الفاظ ملا کر گفتگو کرنا ایک فیشن بن گیا۔ یہاں تک کہ وہ آدمی جس نے تعلیم حاصل نہ کی ہو وہ بھی انگریزی کے چند فِقرے بولنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ مائیں اپنے بچوں کویہ تعلیم دیتی ہیں کہ باہر اپنے سے بڑوں کو ”انکل“ یا ”آنٹی“ کہہ کر مخاطب کرو اور اس طرح بچے ایک معزز شخص یا خاتون کو انکل یا آنٹی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ یہاں تک جمعدار کو انکل کہہ دیتے ہیں اور ایک بھکارن ان کی آنٹی ہو جاتی ہے۔ آج کل انگریزی کے الفاظ اتنے عام ہوگئے ہیں کہ یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان کا استعمال صحیح طور پر کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ جیسے کسی کام کے خراب ہو جانے پر لفظ "شِٹ" یا "فَک" کا استعمال عام ہو گیا ہے۔
اردو زبان کی اپنی ایک چاشنی ہے۔ یہ وہ زبان ہے جس میں الفاظ کی کمی نہیں۔ اس میں ہر رشتے کی مناسبت سے لوگوں کو پوری تہذیب سے مخاطب کرنے کے لیے الفاظ موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری سطح پر جاری کیے جانے والے تمام کاغذات کو اردو زبان میں کیا جانا چاہیے۔ تعلیم کی فراہمی کے لیے ہر سطح پر اردو زبان کو استعمال کیا جائے۔ اردو زبان پر انگریزی کے بڑھتے ہوئے اثرات نقصان دہ ہیں کیونکہ اس سے اردو زبان کی اپنی خاصیت اور اس کے اپنے رنگ پر اثر پڑتا ہے۔ اس کی اپنی شناخت متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے لوگوں میں یہ شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اردو کو خالص طریقے سے بولنے کی کوشش کریں کریں تاکہ اردو زبان کا حق ادا ہو سکے۔
اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے

Very informative
ReplyDeleteMashAllah keep this work up man
ReplyDeleteJazakAllah bhai, means a lot.
DeleteKeep supporting.