Sunday, 5 March 2023

جمہوریت مسائل کا انبار

 بہت سے دانشوروں نے جمہوریت کی کئی تعریفیں کی ہیں ان میں سے سب سے بہترین میری نظر میں امریکہ کے صدر ابراہم لنکن نے کی ہے۔ ابراہم لنکن کے مطابق "جمہوریت عوام کی، عوام کے لئے اور عوام کے ذریعے سے حکومت ہوتی ہے۔" اکثر و بہشتر جمہوریت کو اس بنیاد پر کسی بھی معاشرے میں پھیلایا جاتا ہے کہ اس کے ذریعے ایک عام آدمی تک کی بھی نمائندگی ممکن ہے۔ اس کے ذریعے سے کسی ملک میں بسنے والی عوام کی مرضی کا حکمران منتخب ہو کر ملک و قوم کے مفادات کے لئے کام کرتا ہے اور بوقتِ ضرورت اس کا احتساب بھی ممکن ہے۔ اس نظام کے ذریعے اقلیتوں کا تحفظ بھی ممکن ہے۔ لیکن اگر ہم غور کریں تو یہ تمام تر دعوے محض خام خیالی پر مبنی ہیں کیوںکہ یہ مسائل کہ حل کرنے کے بجائے ان کو جنم اور پشت پناہی فراہم کرتا ہے۔


جمہوریت کے ذریعے عوام کی حقیقی نمائندگی ممکن نہیں

جمہوریت میں قانون سازی کا اختیار عام طور پر ایک مخصوص گروہ (پارلیمینٹ) کے پاس ہوتا ہے لہذا وہاں تک پہنچنا مفاد پرست لوگوں کی کوششوں کا محور بن جاتا ہے۔ تاکہ وہ ان اختیارات کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کر سکیں۔ اس کے لئے یہ لوگ کروڑوں روپے مختلف حلقوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ یہاں تک کے اگر اپنے مفاد کے لئے اگر سیاسی کارکنوں کی زندگیوں کا سودا بھی کرنا پڑے تو وہ دریغ نہیں کرتے۔ جبکہ عوام کی نمائندگی اور فلاح و بہبود ان کے لئے ثانوی حثیت رکھتا ہے۔ آج ہمارے ملک کے مضافاتی و دہی علاقوں کی اکثریت ایسے لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر مجبور پر جو ان پر جبر کے پہاڑ گراتے ہیں۔ اور ایک غریب کسان یا مزدور طبقہ سے تعلق رکھنے والا نہ تو الیکشن لڑنے کا سرمایا رکھتا ہے نہ ہی علاقے کے وڈیرے یا جاگیردار کو ناراض کر کے اپنی جان، مال اور عزت کو گوانا چاہتا ہے بالفرض اگر کوئی نر کا بچہ یہ جسارت کر بھی لے تو اس کا قَلع قَمع ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان کے جمہوری نظام کے ساتھ خاص نہیں۔ یہاں تک کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی اقتدار تک پہنچنے کے لئے سرمایہ دار ملٹی نیشنل کمپنیوں اور طاقتور لابیوں سے پیسہ اور سیاسی مدد درکار ہوتی ہے۔ ایوانِ اعلیٰ میں پہنچنے کے بعد ان کی اولین ترجیع ان ہی لابیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔ عراق کی جنگ اس بات کا ثبوت ہے جس میں امریکی حکومت نے عوام سے جھوٹ بول کر یہ جنگ لڑی اور اس کا فائدہ بش نواز امریکی کمپنیاں اٹھا رہی ہیں۔ لہذا اگر یہ کہا جاۓ جمہوریت کے ذریعے سے منتخب سیاستدان در حقیقت عوام کے نہیں بلکہ طاقتور لابیوں کے نمائندے ہوتے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔


جمہوریت میں حکمرانون کا حقیقی محاسبہ نہیں ہو سکتا

جمہوری نظام میں منتخب ارکانِ اسمبلی حسبِ منشا جب چاہیں قوانین میں تبدیلی کر کے چور راستے نکال لیتے ہیں اور اپنی ذات، پارٹی اور ناقص پالیسیوں کو عدالتی کاروائی سے آزاد کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 248 جمہوریت کے عین مطابق صدر، گورنر اور وزراء وغیرہ کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہونے سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔



جمہوریت میں عدل کی فراہمی اور اقلیتوں کا تحفظ ممکن نہیں

جمہوریت میں اکثریت ہی تمام فیصلے کرتی ہے۔ لہذا اکثریت اقلیت کی پرواہ کیے بغیر کئی ایسے فیصلے اور قانون سازی کرتے ہیں جس سے اقلیت کو دشواری کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ امریکہ میں اکثریت نے 26 اکتوبر 2001 کو مسلمان اقلیت کے خلاف پیٹریاٹ ایکٹ کے نام سے ظالمانہ قوانین جاری کیے تھے جس کے تحت کسی بھی شخص کو دہشت گردی کا الزام لگا کر غیر معینئہ مدت ک لیے جیل بھیجا جا سکتا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کو بغیر بتاۓ سالوں جیل میں رکھنا، "قومی سلامتی" کو جواز بنا کر ملزم کو اس الزام بتاۓ بغیر جیل بھیج دینا اور اسے اپنی مرضی کے مطابق وکیل چننے کی بھی اجازت نہ دینا امریکہ کے "مہذب معاشرے" میں انصاف ہے کیونکہ یہ جمہوری اصولوں کے تحت کیا گیا ہے۔


اسی طرح آج جمہوری یورپ کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننا جرم ہے کیونکہ وہاں کی اکثریت کو یہ قابلِ قبول نہیں۔


جمہوریت انسانی مسائل کا درست حل پیش کرنے سے قاصر ہے

جمہوریت میں قانون سازی کا منبع انسانی عقل ہے۔ انسانی عقل محدود ہونے کی وجہ سے تمام تر معاملاتِ زندگی کے بارے میں صحیع حل پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آج مغرب اسقاطِ حمل، کلوننگ، ترس کھا کر قتل کرنا (مَرسی کِلینگ) وغیرہ جیسے معاملات پر حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا کیونکہ عقل اس امر کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی۔ مغرب نے اس انسانی کمزوری کو جمہوری فلسفہ پر ڈھالنے کی کوشش کی ہے کہ جو بھی فیصلہ اکثریت کا ہوگا اسے قبول کیا جاۓ گا اس بات سے بیزار ہو کر کے آیا وہ فیصلہ صحیع ہے یا غلط۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی معاشرہ آج اپنے مسائل حل کرنے کی تگ و دو میں شرفِ انسانیت سے گر چکا ہے۔

پاکستان میں آج سرمایہ دارانہ نظام اپنی بدترین شکل میں نافظ ہے۔

سمجھا ہے مسلماں اسے بس نامِ الیکشن
ہوتی ہے جہاں عقلِ شریعت پہ راۓ زن
جمہوریت وہ طرزِ حکومت ہے بے گماں
قانون بناتا ہے جہاں حضرتِ انساں
کرتا ہے زنا، سود اور جوۓ کو جو حلال
"کہتے ہیں جہاں میں اسے جمہورِ "با کمال"

2 comments: