Friday, 17 March 2023

منجن بیچنا سیکھیں

یونیورسٹی میں اکثر کسی موضوع پر گفتگو کرتے ہوۓ میرا ایک دوست فراز از مزاح یہ کہتا ہے "یار احتشام آج کے لیۓ اتنا منجن کافی ہے باقی پھر کسی دن" یا پھر کہتا ہے کہ "ہر جگہ منجن نہیں بیچا کرو"۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ منجن بیچنا بھی ایک عظیم مہارت  ہے جو کسی کسی میں ہوتی ہے۔


اگر دنیا کی چار بڑی سلطنتوں کی بات کی جاۓ۔ ایک سلطنتِ روم کہ اس کا جب عروج تھا تو یہ سلطنت شمال کی طرف اسکاٹ لینڈ اور جنوب کی طرف یہ مصر تک پھیلی ہوئی تھی۔ دوسری عظیم سلطنت ژے نگ ہینگ جس کی آج کی جو جدید شکل ہے اس کو چین کہہ سکتے ہیں۔ اور اسی سلطنت کا دو صدی قبل مسیح سے لے کر دو صدی عیسوی تک اس کا عروج قائم رہا۔ اسی سلطنت کے دور میں کاغذ دریافت ہوا۔ تیسری بڑی سلطنت، سلطنتِ عثمانیہ جو مسلمانوں کی سب سے عظیم سلطنت تھی۔ جس کا عروج سولہویں صدی سے لے کر انیسویں صدی تک تھا۔ اور استنبول اس کا دارالخلافہ تھا۔ چوتھی بڑی سلطنت، سلطنتِ برطانیہ جس کا عروج سولہویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک تھا۔ ان سب سلطنتوں میں جتنے بھی عظیم حکمران اور رہنما آۓ ان سب کے اپنے اپنے اوصاف تھے لیکن سب میں ایک چیز لازم و ملزوم تھی، یکساں اہمیت کی حامل تھی۔ اور وہ یہ کہ جتنے بھی عظیم لیڈرز اور کچھ تھے یا نہیں تھے لیکن وہ سب بہت اچھے اور کمال درجہ کے خطیب تھے۔ بہت اچھے مقرر تھے۔ جہاں انہوں نے طاقت کے ذریعے سے اور ریاستی آلہ کے ذریعے سے اپنے تاج کو اپنے تخت کو، اپنی حکمرانی کو، اپنی سلطنت کو قائم کیا وہیں انہوں نے اپنی خطابت سے بھی لوگوں کو اپنا گرویدہ رکھا۔ یہ تاریخ میں بے مثل خطیب تھے۔ شاید یہ اچھے خطیب نہ ہوتے تو یہ اچھے حکمران بھی نہ بن سکتے۔


فیڈل کاسٹرو اس نے 1959 میں مسلسل چھ گھنٹے اپنی قوم سے خطاب کیا تھا۔ یہ کمال کا خطیب تھا۔ کیوبا کا انقلابی لیڈر تھا۔ یہ سوویت یونین کے بلاک میں تھا۔ اس نے امریکہ سے ٹکر لے رکھی تھی۔ اس بات کو خاطر میں لاۓ بغیر کہ کیوبا جغرافیائی لحاظ سے امریکہ کے قریب ہے۔ اس نے اتحادی ممالک کی ایک فوج بنائی اور سووئیت یونین(روس) کو دعوت دی کہ وہ طویل فاصلہ سے مار گرانے والے بیلسٹک میزائل کیوبا میں لگاۓ۔ یہ بھی بلا کا خطیب تھا۔ 


 

 آپ برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کو دیکھ لیں کہ جب دوسری جنگِ عظیم کے موقع پر جرمن فوجوں نے برطانوی افواج کو ادھ موا کر دیا تھا تو چرچل نے تاریخی تقریر کی تھی کہ "ہم ساحلوں پر لڑیں گے، خشکی پر لڑیں گے، ہم کھیتوں اور گلیوں میں لڑیں گے، ہم پہاڑوں پر لڑیں گے۔ ہم کبھی بھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔" اور پھر دنیا نے دیکھا کہ برطانوی تاریخ بدل گئی۔



اسی طرح ستمبر 1965 میں جب ہمسایہ بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں پاک سرزمین کو اپنے ناپاک و نجس قدموں سے آلودہ کرنے کی جو گھناؤنی کوشش کی تھی اسے ہمارے غیور و شیردل محافظوں کے بہتے لہو نے ناکام بنا دیا تھا۔ اس مقدس لہو نے بھارتی فوجیوں کے قدموں کے نشانات تک دھو ڈالے تھے۔ اُس وقت کے صدرِ پاکستان جناب ایوب خان کی ولولہ انگیز تقریر کے الفاظ آج بھی تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں۔

"میرے عزیز ہم وطنوں۔۔۔۔۔۔۔۔! کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوۓ دشمن پر ٹوٹ پڑو اور اس کی شعلہ اگلتی توپوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش کر دو۔" پاکستان کی مسلح افواج نے  اور متحد قوم نے جراؔت و بہادری کی وہ داستان رقم کی جس پر ہماری نسلیں نازاں ہیں۔


 فنِ خطابت حکمرانوں کا وصف ہے۔ اور قدرت کی طرف سے عطا کردا ایک نعمت ہے۔ یہ لیڈرشپ کا خاصہ ہے اور لازمی جز ہے۔ بہت سے لوگ جب گفتگو کرتے ہیں تو سننے والا ان کے اندازِ گفتگو اور باتوں کے سِحر میں جکڑ جاتا ہے۔ کیونکہ ان کے لفظوں کا چناؤ ہی بہت کمال کا ہوتا ہے اور یہ ایک آرٹ ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتا۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اچھے مقرر کو سننا پسند کرتا ہے۔ اگر تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھا جاۓ تو ہم دیکھتے ہیں کہ قدیم یونان میں فنِ خطابت  باقائدہ سکھایا جاتا تھا۔ کیونکہ ایک خطیب حکمرانوں کے عروج و زوال کا باعث بن سکتا ہے۔ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں کہ جب ایک تقریر نے شکست کو فتح میں تبدیل کر دیا۔ لہذا گفتگو کے فن کو سیکھیں اور لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کریں۔

No comments:

Post a Comment