کائنات کی گردش دوراں سالہا سال جاری رہتی ہیں تو پھر جا کر کوئی قائد پیدا ہوتا ہے جو منتشر قوم کو یکجا کرنے اور نصب العین دینے کے لئے منظر عام پر آتا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نگاہ بلند، سخن دل نواز اور جاں پرسوز شخصیت کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ اقبال کے اس شعر کی عملی تفسیر تھے کہ
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
مگر ہماری بدقسمتی کہ قائد کے بعد ہم پر ایسے حکمران مسلط کر دیے گئے کہ جنھوں نے قائد کے نظریات سے روگردانی کی اور اپنے مفادات کو مقدم رکھنے کی غرض سے ملت کا شراسا بکھیر دیا۔
اگر قائد ہوتے تو ہم ڈھاکہ کو ڈوبتے نہ دیکھتے اور نہ ہی ہم ”دو ٹکہ کے انسان“ سے ”دو روپے کے انسان“ تک کا سفر کرتے۔ اگر قائد ہوتے تو پاکستان کے حالات موجودہ حالات کے برعکس ہوتے۔ کسی آدمی یا ادارہ کے پاس اتنے اختیارات نہ ہوتے کہ وہ ریاست کو مفلوج کر کے رکھ دیتا بلکہ قائد کے فرمان کے مطابق وہ ریاست کے ملازم کی حیثیت سے اپنے سول حاکموں کے فیصلوں پر عمل کرتا اور آئین کا وفادار رہتا۔
اگر قائد ہوتے تو ہماری روٹی کا زیادہ حصہ دفاعی جبڑوں میں نہ آتا اور نہ ہی ہمارے بچے پرائے ملکوں میں رزق لینے جا رہے ہوتے۔ غریب جو اپنی آبادیاں بڑھا کر پاکستان کا قرضہ تقسیم کر رہے ہیں ہمارے حاکم اسی تناسب سے قرضے مزید بڑھا نہ رہے ہوتے۔
اگر قائد ہوتے تو پاکستان میں منتخب ارکانِ اسمبلی حسبِ منشا جب چاہیں قوانین میں تبدیلی کر کے چور راستے نہ نکال لیتے ہیں اور اپنی ذات، پارٹی اور ناقص پالیسیوں کو عدالتی کاروائی سے آزاد نہ کر سکتے۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 248 صدر، گورنر اور وزراء وغیرہ کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہونے سے مستثنیٰ قرار نہ دیتا۔ آئین اور قانون سب کے لئے برابر ہوتا۔ معیشت کو تباہ کرنے والے اشتہاری سیاست دان سالوں مفروری کے بعد ریاستی پروٹوکول کے ساتھ وطن واپس نہ پہنچتے۔
اگر قائد ہوتے تو پاکستان بدیانتی سے پاک ہوتا، ہمارے مجاہدوں کئ قربانیاں رائیگاں نہ جاتی، اقلیتوں کا تحفظ ہوتا، وفاق مضبوط اور ہر قسم کے تعصب سے پاک ہوتا۔ آج ہم ماضی کے اوراق سے گرد ہٹا کر قائد کی عظیم جدوجہد کو دیکھتے ہیں اور پھر اپنی آج کی ادا دیکھتے ہیں تو ضمیر کے ہر سوال کے جواب میں کسی سیاسی نوکر، سیاست دان، سرحدوں کے پاسداران اور اس دیس کے پارلیمان کے پاس طویل خاموشی کے سوا کچھ بھی نہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ قائد اعظم جس قسم کے ملک اور قوم کی خواہش رکھتے تھے ہم وہ قوم بن کر دیکھائیں۔ قائد ہمیں جیسا پاکستانی دیکھنا چاہتے تھے آج قائد کے ایک سو پینتالیسویں یوم پیدائش پر عہد کریں کہ ویسا پاکستانی بن کر دیکھائیں گے۔
آؤ اجڑی ہوئی بستی کو پھر آباد کریں
آؤ جکڑی ہوئی روحوں کو پھر آزاد کریں
آؤ کچھ پیروی کریں مسلک فرہاد کریں
یہ نہیں شرط وفا بیٹھ کر آرام کریں
نوجوان وطن آؤ کوئی کام کریں

