Monday, 25 December 2023

قائد ہوتے تو پاکستان کیسا ہوتا

کائنات کی گردش دوراں سالہا سال جاری رہتی ہیں تو پھر جا کر کوئی قائد پیدا ہوتا ہے جو منتشر قوم کو یکجا کرنے اور نصب العین دینے کے لئے منظر عام پر آتا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نگاہ بلند، سخن دل نواز اور جاں پرسوز شخصیت کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ اقبال کے اس شعر کی عملی تفسیر تھے کہ 

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا



مگر ہماری بدقسمتی کہ قائد کے بعد ہم پر ایسے حکمران مسلط کر دیے گئے کہ جنھوں نے قائد کے نظریات سے روگردانی کی اور اپنے مفادات کو مقدم رکھنے کی غرض سے ملت کا شراسا بکھیر دیا۔ 

اگر قائد ہوتے تو ہم ڈھاکہ کو ڈوبتے نہ دیکھتے اور نہ ہی ہم ”دو ٹکہ کے انسان“ سے ”دو روپے کے انسان“ تک کا سفر کرتے۔ اگر قائد ہوتے تو پاکستان کے حالات موجودہ حالات کے برعکس ہوتے۔ کسی آدمی یا ادارہ کے پاس اتنے اختیارات نہ ہوتے کہ وہ ریاست کو مفلوج کر کے رکھ دیتا بلکہ قائد کے فرمان کے مطابق وہ ریاست کے ملازم کی حیثیت سے اپنے سول حاکموں کے فیصلوں پر عمل کرتا اور آئین کا وفادار رہتا۔ 

اگر قائد ہوتے تو ہماری روٹی کا زیادہ حصہ دفاعی جبڑوں میں نہ آتا اور نہ ہی ہمارے بچے پرائے ملکوں میں رزق لینے جا رہے ہوتے۔ غریب جو اپنی آبادیاں بڑھا کر پاکستان کا قرضہ تقسیم کر رہے ہیں ہمارے حاکم اسی تناسب سے قرضے مزید بڑھا نہ رہے ہوتے۔

اگر قائد ہوتے تو پاکستان میں منتخب ارکانِ اسمبلی حسبِ منشا جب چاہیں قوانین میں تبدیلی کر کے چور راستے نہ نکال لیتے ہیں اور اپنی ذات، پارٹی اور ناقص پالیسیوں کو عدالتی کاروائی سے آزاد نہ کر سکتے۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 248 صدر، گورنر اور وزراء وغیرہ کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہونے سے مستثنیٰ قرار نہ دیتا۔ آئین اور قانون سب کے لئے برابر ہوتا۔ معیشت کو تباہ کرنے والے اشتہاری سیاست دان سالوں مفروری کے بعد ریاستی پروٹوکول کے ساتھ وطن واپس نہ پہنچتے۔ 

اگر قائد ہوتے تو پاکستان بدیانتی سے پاک ہوتا، ہمارے مجاہدوں کئ قربانیاں رائیگاں نہ جاتی، اقلیتوں کا تحفظ ہوتا، وفاق مضبوط اور ہر قسم کے تعصب سے پاک ہوتا۔ آج ہم ماضی کے اوراق سے گرد ہٹا کر قائد کی عظیم جدوجہد کو دیکھتے ہیں اور پھر اپنی آج کی ادا دیکھتے ہیں تو ضمیر کے ہر سوال کے جواب میں کسی سیاسی نوکر، سیاست دان، سرحدوں کے پاسداران اور اس دیس کے پارلیمان کے پاس طویل خاموشی کے سوا کچھ بھی نہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ قائد اعظم جس قسم کے ملک اور قوم کی خواہش رکھتے تھے ہم وہ قوم بن کر دیکھائیں۔ قائد ہمیں جیسا پاکستانی دیکھنا چاہتے تھے  آج قائد کے ایک سو پینتالیسویں  یوم پیدائش پر عہد کریں کہ ویسا پاکستانی بن کر دیکھائیں گے۔


آؤ اجڑی ہوئی بستی کو پھر آباد کریں 

آؤ جکڑی ہوئی روحوں کو پھر آزاد کریں 

آؤ کچھ پیروی کریں مسلک فرہاد کریں

یہ نہیں شرط وفا بیٹھ کر آرام کریں

نوجوان وطن آؤ کوئی کام کریں


Sunday, 10 December 2023

انا کی آگ میں سلگتا انسان

اکڑ، تکبر اور انا وہ ناسور ہیں جو انسان کو بام عروج سے تنزلی کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔ یہ انا اور تکبر ہی تھا جس نے عزازیل کو حکم عدولی کی جرأت دی۔ اس کی انا اور ”میں“ غالب آگئی اور یہ اکڑ گیا۔ اور پھر رب کائنات نے اس کو عزازیل سے شیطان اور مردود بنا ڈالا۔ جب کسی شخص میں انا، تکبر اور غرور آ جائے تو اسے اپنی ذات کے سوا کچھ نہیں دیکھائی دیتا کیونکہ وہ خود پسندی کے مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ انسان میں غرور و تکبر کس بات کا ہوتا ہے ان وقتی عہدوں کا جو آج ہیں کل نہیں، اپنے حسن اور جوانی پر غرور جو عمر ڈھلنے کے ساتھ ہی ماند پڑ جاتی ہے۔ مال و دولت پر غرور جو فانی ہے یہی رہ جانا ہے۔

جب کوئی مغرور بن کر بات کرتا ہے تو مجھے نہ جانے کیوں پیر نصیر الدین شاہ صاحب کا یہ شعر یاد آتا ہے۔


اتنا مت اکڑ، نہ اتنے جذبات میں رہ

حد سے نہ گزر، دائرہ ذات میں رہ

اک قطرہ ناپاک نسب ہے تیرا

یہی اوقات ہے تیری، اوقات میں رہ


غرور صرف اس خداۓ لم یزل کو زیب دیتا ہے جو اپنی صفات میں یکتا ہے۔ اس کی تمام صفات ذاتی ہیں اور ہم انسانوں کی تمام صفات عطائی ہیں۔ اس لئے خداۓ بزرگ و برتر کو ہمارا غرور اور تکبر کرنا سخت ناپسند ہے۔ اس لئے انسان کو چاہئے اپنی اصل نہ بھولے۔ ورنہ اس ذات کی ایک صفت قہار بھی ہے۔ سو محبت بانٹیں اور مخلوق خدا کے کاموں میں رکاوٹیں ڈالنے کے بجاۓ دست بازو بنیں۔

بعض اوقات ہمارے کچھ دانشور حضرات اپنی ”انا“ کو ”خودی“ سمجھتے ہیں۔ یہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ ان دونوں کے فرق کو جان کے جیو۔ انا انسان کو خود پرست بنا دیتی ہے۔ اس کے باعث انسان خود کو برتر اور سامنے والے کو کم تر سمجھتا ہے۔ یہ ناچاقیوں اور جھگڑوں کو جنم دیتی ہے۔ جبکہ ”خودی“ نام ہے خود شناسی کا، خود کو سمجھنے کا، اپنی صلاحیتوں اور اختیارات کو جاننے کا اور اپنی حدود کا تعین کرنے کا۔ خودی تو یہ ہے کہ انسان دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاۓ، اپنے قوت بازو سے اپنے حالات بدلنے کی سعی کرے۔ خودی وہ عظمت ہے جس نے انسان کو اشرف المخلوقات کے منصب سے نوازا۔ آخر میں بس یہی کہوں گا کہ


فنا کر کے انا کو جاوداں ہو جا 

خودی پا کر تو بحر بے کراں ہو جا

دوام زندگی چاہئے تو اے انساں 

نکل کر ذات سے عیاں ہو جا


x