Monday, 25 December 2023

قائد ہوتے تو پاکستان کیسا ہوتا

کائنات کی گردش دوراں سالہا سال جاری رہتی ہیں تو پھر جا کر کوئی قائد پیدا ہوتا ہے جو منتشر قوم کو یکجا کرنے اور نصب العین دینے کے لئے منظر عام پر آتا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نگاہ بلند، سخن دل نواز اور جاں پرسوز شخصیت کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ اقبال کے اس شعر کی عملی تفسیر تھے کہ 

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا



مگر ہماری بدقسمتی کہ قائد کے بعد ہم پر ایسے حکمران مسلط کر دیے گئے کہ جنھوں نے قائد کے نظریات سے روگردانی کی اور اپنے مفادات کو مقدم رکھنے کی غرض سے ملت کا شراسا بکھیر دیا۔ 

اگر قائد ہوتے تو ہم ڈھاکہ کو ڈوبتے نہ دیکھتے اور نہ ہی ہم ”دو ٹکہ کے انسان“ سے ”دو روپے کے انسان“ تک کا سفر کرتے۔ اگر قائد ہوتے تو پاکستان کے حالات موجودہ حالات کے برعکس ہوتے۔ کسی آدمی یا ادارہ کے پاس اتنے اختیارات نہ ہوتے کہ وہ ریاست کو مفلوج کر کے رکھ دیتا بلکہ قائد کے فرمان کے مطابق وہ ریاست کے ملازم کی حیثیت سے اپنے سول حاکموں کے فیصلوں پر عمل کرتا اور آئین کا وفادار رہتا۔ 

اگر قائد ہوتے تو ہماری روٹی کا زیادہ حصہ دفاعی جبڑوں میں نہ آتا اور نہ ہی ہمارے بچے پرائے ملکوں میں رزق لینے جا رہے ہوتے۔ غریب جو اپنی آبادیاں بڑھا کر پاکستان کا قرضہ تقسیم کر رہے ہیں ہمارے حاکم اسی تناسب سے قرضے مزید بڑھا نہ رہے ہوتے۔

اگر قائد ہوتے تو پاکستان میں منتخب ارکانِ اسمبلی حسبِ منشا جب چاہیں قوانین میں تبدیلی کر کے چور راستے نہ نکال لیتے ہیں اور اپنی ذات، پارٹی اور ناقص پالیسیوں کو عدالتی کاروائی سے آزاد نہ کر سکتے۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 248 صدر، گورنر اور وزراء وغیرہ کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہونے سے مستثنیٰ قرار نہ دیتا۔ آئین اور قانون سب کے لئے برابر ہوتا۔ معیشت کو تباہ کرنے والے اشتہاری سیاست دان سالوں مفروری کے بعد ریاستی پروٹوکول کے ساتھ وطن واپس نہ پہنچتے۔ 

اگر قائد ہوتے تو پاکستان بدیانتی سے پاک ہوتا، ہمارے مجاہدوں کئ قربانیاں رائیگاں نہ جاتی، اقلیتوں کا تحفظ ہوتا، وفاق مضبوط اور ہر قسم کے تعصب سے پاک ہوتا۔ آج ہم ماضی کے اوراق سے گرد ہٹا کر قائد کی عظیم جدوجہد کو دیکھتے ہیں اور پھر اپنی آج کی ادا دیکھتے ہیں تو ضمیر کے ہر سوال کے جواب میں کسی سیاسی نوکر، سیاست دان، سرحدوں کے پاسداران اور اس دیس کے پارلیمان کے پاس طویل خاموشی کے سوا کچھ بھی نہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ قائد اعظم جس قسم کے ملک اور قوم کی خواہش رکھتے تھے ہم وہ قوم بن کر دیکھائیں۔ قائد ہمیں جیسا پاکستانی دیکھنا چاہتے تھے  آج قائد کے ایک سو پینتالیسویں  یوم پیدائش پر عہد کریں کہ ویسا پاکستانی بن کر دیکھائیں گے۔


آؤ اجڑی ہوئی بستی کو پھر آباد کریں 

آؤ جکڑی ہوئی روحوں کو پھر آزاد کریں 

آؤ کچھ پیروی کریں مسلک فرہاد کریں

یہ نہیں شرط وفا بیٹھ کر آرام کریں

نوجوان وطن آؤ کوئی کام کریں


Sunday, 10 December 2023

انا کی آگ میں سلگتا انسان

اکڑ، تکبر اور انا وہ ناسور ہیں جو انسان کو بام عروج سے تنزلی کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔ یہ انا اور تکبر ہی تھا جس نے عزازیل کو حکم عدولی کی جرأت دی۔ اس کی انا اور ”میں“ غالب آگئی اور یہ اکڑ گیا۔ اور پھر رب کائنات نے اس کو عزازیل سے شیطان اور مردود بنا ڈالا۔ جب کسی شخص میں انا، تکبر اور غرور آ جائے تو اسے اپنی ذات کے سوا کچھ نہیں دیکھائی دیتا کیونکہ وہ خود پسندی کے مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ انسان میں غرور و تکبر کس بات کا ہوتا ہے ان وقتی عہدوں کا جو آج ہیں کل نہیں، اپنے حسن اور جوانی پر غرور جو عمر ڈھلنے کے ساتھ ہی ماند پڑ جاتی ہے۔ مال و دولت پر غرور جو فانی ہے یہی رہ جانا ہے۔

جب کوئی مغرور بن کر بات کرتا ہے تو مجھے نہ جانے کیوں پیر نصیر الدین شاہ صاحب کا یہ شعر یاد آتا ہے۔


اتنا مت اکڑ، نہ اتنے جذبات میں رہ

حد سے نہ گزر، دائرہ ذات میں رہ

اک قطرہ ناپاک نسب ہے تیرا

یہی اوقات ہے تیری، اوقات میں رہ


غرور صرف اس خداۓ لم یزل کو زیب دیتا ہے جو اپنی صفات میں یکتا ہے۔ اس کی تمام صفات ذاتی ہیں اور ہم انسانوں کی تمام صفات عطائی ہیں۔ اس لئے خداۓ بزرگ و برتر کو ہمارا غرور اور تکبر کرنا سخت ناپسند ہے۔ اس لئے انسان کو چاہئے اپنی اصل نہ بھولے۔ ورنہ اس ذات کی ایک صفت قہار بھی ہے۔ سو محبت بانٹیں اور مخلوق خدا کے کاموں میں رکاوٹیں ڈالنے کے بجاۓ دست بازو بنیں۔

بعض اوقات ہمارے کچھ دانشور حضرات اپنی ”انا“ کو ”خودی“ سمجھتے ہیں۔ یہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ ان دونوں کے فرق کو جان کے جیو۔ انا انسان کو خود پرست بنا دیتی ہے۔ اس کے باعث انسان خود کو برتر اور سامنے والے کو کم تر سمجھتا ہے۔ یہ ناچاقیوں اور جھگڑوں کو جنم دیتی ہے۔ جبکہ ”خودی“ نام ہے خود شناسی کا، خود کو سمجھنے کا، اپنی صلاحیتوں اور اختیارات کو جاننے کا اور اپنی حدود کا تعین کرنے کا۔ خودی تو یہ ہے کہ انسان دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاۓ، اپنے قوت بازو سے اپنے حالات بدلنے کی سعی کرے۔ خودی وہ عظمت ہے جس نے انسان کو اشرف المخلوقات کے منصب سے نوازا۔ آخر میں بس یہی کہوں گا کہ


فنا کر کے انا کو جاوداں ہو جا 

خودی پا کر تو بحر بے کراں ہو جا

دوام زندگی چاہئے تو اے انساں 

نکل کر ذات سے عیاں ہو جا


x



Thursday, 20 July 2023

Navigating the Impact of AI on the Job Market: Tips for Thriving in the Digital Age

The term Artificial Intelligence or AI refers to the human intelligence in machine. Means that by programming, machines are able to do those tasks which typically human do. These machines or programs capable to perceive their environment, understand, learn from experiences and applying knowledge to make particular decisions and perform the specific tasks, similar to how a human being does.

The rapid advancement in the field of artificial intelligence has revolutionized the industries. In this blog, we will cover the impact of AI on employment, how it automates the traditional jobs and its capability to create new job opportunities. Finally, strategies and tips for individual to survive in this evolving landscape.

Impact of AI on a Job Market

Artificial Intelligence influence the job market in two ways, one is by task automation while other is by creating new job opportunities. As discussed previously that it has ability to analyze data and perform routine tasks efficiently. That is why it can replace traditional human roles in industries. Sectors like customer care, data entry, manufacture etc. They are consist of routine tasks that will be automated. Thus, it will lead to job displacement.

While AI may replace particular jobs, but at the same time it is creating new job opportunities in the industry. Emerging roles in AI technology like AI Engineers, AI Analyst and Data Scientists are in high demand. These designations required those experts who can develop, manage and analyze the complex data and AI systems. Also, they ensure that the ethical consideration is up to mark.

Artificial Intelligence’s influence on various industries

AI’s impact extends across number of industries, enhances process and improved efficiency. Here are few examples

  • Health care

AI plays a very important role in medical diagnosis and treatment. Medical data of patient analyzed by advance algorithms which provide the accurate diagnosis. That leads towards the better health outcomes of patient efficiently.

  • Banking and Finance

In this sector, AI is transforming risk management, fraud detection and algorithmic trading. Machine learning algorithms detect patterns in financial data, optimize investment opportunities and enhance security.

  • Journalism

With the help of AI, journalist can automate repetitive tasks such as fact checking, generating news reports etc. This will save time and help the journalist to focus more on complex and investigative stories. AI can play an ethical and responsible role in truthful journalism. However, it should not be used to replace human critical thinking and judgment.

Google has partnered with Polis, media think-tank at the London School of Economics and Political Science, to create ‘Journalism AI.’ ‘Journalism AI’ will help the news industry to leverage Artificial Intelligence (AI) in more innovative ways.


Pakistan's First AI Anchor Launches Groundbreaking AI Talk Show

  • Retail and Manufacturing

By optimizing inventory control and demand forecasting, AI is reshaping supply chain management. In the retail sector, it uses AI powered chatbots and recommendation system to suggest improvements and enhance customer service and personalize shopping experiences. 

The Skills Needed in AI Driven Job Market

Since AI has effected the job market too much. Thus, certain skills become most important to learn unorder to seek employment.

  • Analytical and Technical Skills

Expertise in analyzing data, programming and machine learning is very important. Having the good understanding of algorithms, statically modeling and data visualizing enable the person to tackle the power of AI and can make data driven decisions.

  • Creative & Problem Solving Skills

Even the AI excels day by day in data processing, but the human creativity and critical thinking remains vital. The ability to identify, plan and then solve the complex problems. So the problem solving skills are most needed skills to compete in the era of AI.

  •  Continues Learning & Adaptability

AI driven job market demands a growth of mindset. It requires a proactive approach. Since AI is continuously evolving so it is necessary to stay updated with latest development, news and technology.  

Preparing for AI Driven Job Market

  • Government Policies & Educational Reforms

Educational institutes collaborate with government to take the initiative to develop policies for AI integration in job market. They should invest in AI education and related research by offering different courses & diplomas. They should equip their citizens with modern education & necessary skills.

  • Upgrading Skills

Everyone should actively seek opportunities to enhance their skills by attending different online webinars, seminars, online courses, workshops and certifications. These will make them able to adapt the changes as per market trend.

Resolving the Ethical Concerns in AI Workforce Transformation

Due to the evolving of AI in the market, there is growing worldwide concern over the ethical consideration.

  • Safeguarding Against Job Displacement

Governments, organizations and even individuals should play their role to support those jobs which may be at risk due to AI automation. So, the programs like job transition can help to minimize the negative impact of job displacement.

  • Ensuring Fairness & Transparency

Efforts must be made from experts and relevant authorities to prevent biases in AI algorithms. So, that AI systems operates in accountable manner to avoid discrimination and harmful impacts.


In the last I would say that the steady growth of AI bring both opportunities and challenges in the job market. While AI may automate certain tasks, but at the same time it would create new job roles and demand a range of skills from individuals. Thus continues learning, acquiring relevant skills and adapting the changes as per trend with help us to thrive in this transformative era of Artificial Intelligence. However, it seems crucial that in future human and AI will collaborate effectively for the betterment of society.

Saturday, 15 July 2023

What is NFT

NFT stands for Non-Fungible Token. Before understanding NFT one should have an idea about fungibility and non-fungibility.



Fungible Assets

Any asset whose units are interchangeable is known as fungible asset. Every unit of a fungible asset have a similar market value & validity. Lets take an example of Rs 100, one note of Pakistani hundred rupees is equal to another note of Pakistani hundred rupees in terms of validity and value.

Other examples of fungible assets include precious metals, commodities, cryptocurrencies etc.

Non-Fungible Assets

After knowing you about fungible assets you may have an idea about non fungible asset. They are not interchangeable with each other because of there unique properties. Even if they look similar but they are different in market value it’s because of their properties. Lets take a real-world example of non-fungible asset that is cinema ticket. Even if two movie tickets of cinema are same in terms of design, but the front row ticket have more value than the back row ticket.

What are NFTs?

The Non-fungible tokens are basically digital assets that feature the information documented in smart contacts. Currently NFTs are the hottest topic in the domain of blockchain. NFTs are unique and it gives a person privilege of complete ownership or authority on a digital asset. One can buy and sell NFTs using crypto currency and amazingly he or she does not need a physical asset to associate with NFT. However, NFTs do represent the physical assets such as artwork.

Friday, 7 July 2023

عظمت قران

 قران پاک رہتی دنیا تک بنی آدم کے لئے منبع ہدایت ہے۔ یہ وہ عظیم کتاب ہے  جسے پڑھنا ہو اور پڑھنے والے پر غسل فرض ہو تو اس کا اس عظیم کتاب کو چھونا حرام ہے۔ ادب کا یہ تقاضا ہے کہ اس کی طرف پیٹھ کرنا منع ہے۔  قران پاک کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس کو لانے والا فرشتہ  (حضرت جبرائیل علیہ سلام)تمام فرشتوں کا سردار ہے۔  جس مہینہ (رمضان المبارک)میں نازل ہوا  وہ تمام مہینوں میں افضل، جس رات نازل ہوا (لیلۃالقدر)وہ رات تمام راتوں سے افضل، جس جگہ(غارِحرا) نازل ہوا وہ تمام جگہوں میں افضل، جس زبان (عربی)میں نازل ہوا وہ زبانوں میں افضل اور سب سے بڑھ کر جس نبی پر نازل ہوئی وہ تمام  انبیاء  علیہ سلام کے سردار ہیں۔



قران پاک سے پہلے تین آسمانی کتابیں اور کئی صحیفے نازل ہوئے لیکن اس وقت کی امتوں نے اپنے ذاتی مفادات کے تحت ان میں تبدیلیاں کی۔ لیکن قران کریم وہ عظیم المرتبت کتاب ہے جس کی حفاظت کا ذمہ خود رب العالمین نے لیا ہے۔

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ إِنَّا لَہُ لَحَافِظُوْنَ

یقیناً ہم نے ہی اترا ہے نصیحت کو اور بے شک ہم ہی خود 

اس کے نگہبان ہیں۔


اس آیت میں گویا اللہ تعالی نے قران پاک کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی اس میں ذرا برابر بھی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ آج بھی اپنے الفاظ، معانی، رسم الخط حتیٰ کہ ہر لحاظ سے محفوظ ہے اور قیامت تک کوئی طاقت اس میں تغیر نہیں کر سکے گی کیونکہ

اللَّہَ لَاْ یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ

اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا

حال ہی میں سویڈن میں قران پاک کو نظر آتش کیا گیا اس طرح کے کئی واقعات آئے روز ہو رہے ہوتے ہیں۔ 

اگر ماضی میں بھی دیکھاجاۓ تو اندلس کے ایک پادری زیمنس نے بھی مسلمانوں کے گھروں سے قران پاک جمع کر کے چو راہوں پر آگ لگا کر ظلم کی انتہا کی۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو جبراً عیسائی بنانے کی کوشش کی گئی، ناکامیوں پر انہيں سخت عذاب سے دوچار کیا گیا یہاں تک کہ مسلمانوں کو زندہ جلانے کے واقعات بھی پیش آئے۔ بڑی تعداد کو جلاوطن کر دیا گیا اور ایک صدی کے اندر یہ عالم ہو گیا کہ سرزمین اندلس (اسپین) پر ایک بھی مسلمان باقی نہ بچا۔

 لیکن اسلام کا پیغام رکا نہیں اور آج تک لوگ جوک در جوک اس پیارے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سویڈن میں جو کچھ ہوا اس کا منہ توڑ جواب دیا جاۓ۔ تمام تنظیمات اپنا اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں جیسے انجمن طلباء اسلام نے آج 7 مئی کو یوم حرمت قران کے طور پر منایا۔ اسی کے تحت ملک پاکستان کے طول و عرض میں لاکھوں طلباء نے ریلیاں نکال کر غیرتِ ایمانی کا ثبوت دیا۔

ناظم کشمیر سردار بیدار ریلی سے خطاب کرتے ہوئے


سرکاری سطح پر سویڈن سے تمام تر تعلقات ختم کر دئیے جائیں۔ تمام مسلم ممالک اقوام متحدہ میں باہمی اتفاق سے اس کا سدباب کریں۔ انفرادی طور پر ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنا تعلق قران پاک سے مضبوط کریں۔


Sunday, 2 July 2023

میں ایک جاسوس تھا

 

موجودہ دور میں جاسوسی نظام نے کافی ترقی کر لی ہے۔ اور روز بروز اس میں نئی ٹیکنالوجی کی بدولت جدت آ رہی ہے۔ طارق اسماعیل ساگر کی یہ کتاب "میں ایک جاسوس تھا" ایک عمدہ کاوش تھی جس کا مقصد قارئین کے دل میں ان گمنام سرفروشوں کے لئے محبت پیدا کرنا جو اپنی جوانیاں ملک و قوم کے دفاع کے لئے وقف کر دیتے ہیں۔

 کسی بھی کتاب کو ناپسند کرنا اس کے مصنف کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔مصنف کو قلم پر مکمل دسترس  حاصل ہے، منظر کشی میں کمال درجہ حاصل ہے، جملوں کی بنت بہت  خوبصورت لیکن اس کے علاوہ جاسوسی ناول میں یا تحریر میں جو چیز ہونی چاہیے وہ نہیں ملی۔

    مجھے اس کتاب میں جو کمی نظر آئی وہ یہ تھی کہ اس میں مشن کی تفصیلات اور ایک جاسوس کو اپنے ملک سے رابطہ کرنے اور انتہائی خفیہ معلومات ٹرانسفر کرنے کے لیے جو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اس کا تذکرہ نہ ہونے کے برابر تھا۔

 جبکہ پونم اور پرکاش کی محبت کا تفصیلی ذکر تھا۔ کئی ایک مقامات پر ایسا بھی محسوس ہوا کہ میں ایک جاسوسی ناول نہیں بلکہ رومانوی ناول پڑھ رہا ہوں۔

اس کتاب کا بہترین حصہ وہ تھا جب پرکاش  کو بھارتی خفیہ ایجنسی حراست میں لے لیتی ہے اور پونم بشمول تمام گھر والوں پر پرکاش کی حقیقت آشکار ہو جاتی ہے۔


میں کسی کو یہ کتاب خرید کر پڑھنے کا مشورہ نہیں دوں گا۔ البتہ پی ڈی ایف کی صورت میں پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ خرید کر پڑھنے کے لئے میرا مشورہ ہو گا کہ آپ" غازی از ابو شجاع ابو وقار" پڑھیں۔




Thursday, 1 June 2023

علم کی فضیلت اور اس کے تقاضے

علم کے لغوی معنی "جاننا" کے ہیں۔ کسی چیز کی ماہیت یا حقیقت دریافت کرنا، اس کے فوائد اور نقصانات سے واقف ہونا، مقام استعمال کا جاننا اور مناسب موقع پر اس سے مستفید ہونے کا نام علم ہے۔ قران پاک میں کئی مقامات پر اللہ تعالی نے علم اور اہل علم کا  ذکر فرمایا ہے۔ سورہ اٰل عمران میں  اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے  

شَهِدَ اللّهُ أَنَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ وَالْمَلاَئِكَةُ وَأُوْلُواْ الْعِلْمِ قَآئِمَاً بِالْقِسْطِ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور عالموں نے انصاف سے قائم ہوکر اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا۔

اس آیت پر اگر ہم غور کریں تو اللہ تعالی نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اللہ تعالی نے اپنی اس گواہی میں فرشتوں کے ساتھ ساتھ اہل علم کی گواہی کو بھی ملایا ہے۔ تو اس سے پتا چلا کہ اہل علم بڑی عزت و عظمت والے ہیں کہ رب تعالی نے ان کو اپنے ساتھ اپنی توحید کا گواہ بنا دیا۔

اللہ تعالی کا یہ احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمیں راہ علم کا مسافر بنایا۔ علم حاصل کرنے کے معاملے میں ہمیں کسی قسم کی شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ ابن ماجہ کتاب الطھارہ میں ہے کہ انصار کی ایک صحابیہ حضرت سیدنا اسماء رضی اللہ عنھا نے رسول اللہ ﷺ سے ماہواری کے غسل کے متعلق دریافت کیا تو آپ ﷺ نے اس کا تفصیلی طریقہ ارشاد فرمایا۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے ارشاد فرمایا کہ انصار کی خواتین بھی کیا خوب ہیں کہ دین کے احکام سیکھنے میں شرم و جھجک ان کے آڑے نہیں آتی۔

امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے بخاری شریف میں علم میں حیا سے متعلق ایک باب باندھا اور اس کا آغاز اس قول سے کیا

لا يتعلم العلم مستحي ولا مستكبر

حصول علم میں شرم کرنے والا اور تکبر کرنے والا کبھی علم حاصل نہیں کرسکتا

لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ سیکھتے وقت شرم و جھجک کو آڑے نہ آنے دیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے اندر علم حاصل کرنے کی جستجو اور تڑپ کو ہمیشہ زندہ رکھیں چاہے کسی بھی مقام پر پہنچ جائیں کیونکہ اللہ تعالی نے  ہم انسانوں کو اپنی تمام مخلوقات پر فضیلت بخشی ہے تو وہ علم ہی کی بدولت ہے ورنہ ہم خاک کے ذروں کی کیا اوقات کے ہمیں اشرف المخلوقات کے تخت سے نوازا جاتا۔

میرے ایک ٹیچر یہ کہا کرتے تھے کہ علم حاصل کرنے کے لیئے تین چیزوں کا ادب کرنا بہت ضروری ہے جس سے ،جس کو، جس جگہ۔ جس سے پڑھتے ہو مطلب ہمارے اساتذہ اکرام،  جس کو پڑھتے ہو یعنی ہماری کتابیں اور جس جگہ پڑھتے ہیں یعنی اسکول، کالج، مدرسہ یا جامعہ وغیرہ۔

بحیثیت طالب علم ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے علم پر تکبر نہ کریں اور استاد کے حکم پر سر تسلیم خم کریں۔ امام غزالی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک طالبعلم کو چاہیے کہ وہ اپنی لگام استاد کے ہاتھوں میں دے دے جیسے قریب المرگ مریض دوا کے معاملے میں اپنا اختیار طبیب کو دے دیتا ہے۔

مزید براںہمیں بحیثیت طالبعلم اساتذہ کی خدمت کے لیئے ہر وقت کمر بستہ رہنا چاہیے اور اس بات سے بیزار ہو جائیں کہ کوئی ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے کیونکہ آج کل کالج و یونیورسٹیز میں یہ ٹرینڈ بن گیا ہے کہ وہ بچہ جو پروفیسر کا ادب کرے، استاد کے کلاس میں داخل ہونے پر کھڑے ہو کر استقبال کرے یا کہیں سے گزرتے وقت آگے بڑھ کر سلام کرے تو اس کو دیگر طلباء عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں جیسے اس نے نا جانے کتنا بڑا گناہ کر دیا ہو۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اس بچہ کو خوشآمدی کہہ کہہ کر اس کی یونیورسٹی یا کالج کی زندگی اجیرن بنا دیتے ہیں۔ لیکن قارئین محترم ہمیں ان سب چیزوں کو نظرانداز کر کے اساتذہ کی تکریم میں کسی قسم کی کمی کو نہیں آنے دینا۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا

ليس من اخلاق المؤمن الملق الا في طلب العلم

مومن کہ اخلاق میں سے خوشآمد کرنا نہیں مگر علم حاصل کرنے کے لئے کرسکتا ہے۔  


شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ

قسم ہے شان وحدت کی تجھے آباد کر دے گا

ادب استاد کا ایک دن تجھے استاد کر دے گا

 

آخر میں اللہ تعالی سے دعاگو ہوں کہ وہ ہمیں علم نافہ عطا فرمائے اور علم حاصل کرنے کے  بعد صدق دل سے ملک و قوم کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اٰمین

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پَر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

و سلام

Friday, 17 March 2023

منجن بیچنا سیکھیں

یونیورسٹی میں اکثر کسی موضوع پر گفتگو کرتے ہوۓ میرا ایک دوست فراز از مزاح یہ کہتا ہے "یار احتشام آج کے لیۓ اتنا منجن کافی ہے باقی پھر کسی دن" یا پھر کہتا ہے کہ "ہر جگہ منجن نہیں بیچا کرو"۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ منجن بیچنا بھی ایک عظیم مہارت  ہے جو کسی کسی میں ہوتی ہے۔


اگر دنیا کی چار بڑی سلطنتوں کی بات کی جاۓ۔ ایک سلطنتِ روم کہ اس کا جب عروج تھا تو یہ سلطنت شمال کی طرف اسکاٹ لینڈ اور جنوب کی طرف یہ مصر تک پھیلی ہوئی تھی۔ دوسری عظیم سلطنت ژے نگ ہینگ جس کی آج کی جو جدید شکل ہے اس کو چین کہہ سکتے ہیں۔ اور اسی سلطنت کا دو صدی قبل مسیح سے لے کر دو صدی عیسوی تک اس کا عروج قائم رہا۔ اسی سلطنت کے دور میں کاغذ دریافت ہوا۔ تیسری بڑی سلطنت، سلطنتِ عثمانیہ جو مسلمانوں کی سب سے عظیم سلطنت تھی۔ جس کا عروج سولہویں صدی سے لے کر انیسویں صدی تک تھا۔ اور استنبول اس کا دارالخلافہ تھا۔ چوتھی بڑی سلطنت، سلطنتِ برطانیہ جس کا عروج سولہویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک تھا۔ ان سب سلطنتوں میں جتنے بھی عظیم حکمران اور رہنما آۓ ان سب کے اپنے اپنے اوصاف تھے لیکن سب میں ایک چیز لازم و ملزوم تھی، یکساں اہمیت کی حامل تھی۔ اور وہ یہ کہ جتنے بھی عظیم لیڈرز اور کچھ تھے یا نہیں تھے لیکن وہ سب بہت اچھے اور کمال درجہ کے خطیب تھے۔ بہت اچھے مقرر تھے۔ جہاں انہوں نے طاقت کے ذریعے سے اور ریاستی آلہ کے ذریعے سے اپنے تاج کو اپنے تخت کو، اپنی حکمرانی کو، اپنی سلطنت کو قائم کیا وہیں انہوں نے اپنی خطابت سے بھی لوگوں کو اپنا گرویدہ رکھا۔ یہ تاریخ میں بے مثل خطیب تھے۔ شاید یہ اچھے خطیب نہ ہوتے تو یہ اچھے حکمران بھی نہ بن سکتے۔


فیڈل کاسٹرو اس نے 1959 میں مسلسل چھ گھنٹے اپنی قوم سے خطاب کیا تھا۔ یہ کمال کا خطیب تھا۔ کیوبا کا انقلابی لیڈر تھا۔ یہ سوویت یونین کے بلاک میں تھا۔ اس نے امریکہ سے ٹکر لے رکھی تھی۔ اس بات کو خاطر میں لاۓ بغیر کہ کیوبا جغرافیائی لحاظ سے امریکہ کے قریب ہے۔ اس نے اتحادی ممالک کی ایک فوج بنائی اور سووئیت یونین(روس) کو دعوت دی کہ وہ طویل فاصلہ سے مار گرانے والے بیلسٹک میزائل کیوبا میں لگاۓ۔ یہ بھی بلا کا خطیب تھا۔ 


 

 آپ برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کو دیکھ لیں کہ جب دوسری جنگِ عظیم کے موقع پر جرمن فوجوں نے برطانوی افواج کو ادھ موا کر دیا تھا تو چرچل نے تاریخی تقریر کی تھی کہ "ہم ساحلوں پر لڑیں گے، خشکی پر لڑیں گے، ہم کھیتوں اور گلیوں میں لڑیں گے، ہم پہاڑوں پر لڑیں گے۔ ہم کبھی بھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔" اور پھر دنیا نے دیکھا کہ برطانوی تاریخ بدل گئی۔



اسی طرح ستمبر 1965 میں جب ہمسایہ بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں پاک سرزمین کو اپنے ناپاک و نجس قدموں سے آلودہ کرنے کی جو گھناؤنی کوشش کی تھی اسے ہمارے غیور و شیردل محافظوں کے بہتے لہو نے ناکام بنا دیا تھا۔ اس مقدس لہو نے بھارتی فوجیوں کے قدموں کے نشانات تک دھو ڈالے تھے۔ اُس وقت کے صدرِ پاکستان جناب ایوب خان کی ولولہ انگیز تقریر کے الفاظ آج بھی تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں۔

"میرے عزیز ہم وطنوں۔۔۔۔۔۔۔۔! کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوۓ دشمن پر ٹوٹ پڑو اور اس کی شعلہ اگلتی توپوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش کر دو۔" پاکستان کی مسلح افواج نے  اور متحد قوم نے جراؔت و بہادری کی وہ داستان رقم کی جس پر ہماری نسلیں نازاں ہیں۔


 فنِ خطابت حکمرانوں کا وصف ہے۔ اور قدرت کی طرف سے عطا کردا ایک نعمت ہے۔ یہ لیڈرشپ کا خاصہ ہے اور لازمی جز ہے۔ بہت سے لوگ جب گفتگو کرتے ہیں تو سننے والا ان کے اندازِ گفتگو اور باتوں کے سِحر میں جکڑ جاتا ہے۔ کیونکہ ان کے لفظوں کا چناؤ ہی بہت کمال کا ہوتا ہے اور یہ ایک آرٹ ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتا۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اچھے مقرر کو سننا پسند کرتا ہے۔ اگر تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھا جاۓ تو ہم دیکھتے ہیں کہ قدیم یونان میں فنِ خطابت  باقائدہ سکھایا جاتا تھا۔ کیونکہ ایک خطیب حکمرانوں کے عروج و زوال کا باعث بن سکتا ہے۔ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں کہ جب ایک تقریر نے شکست کو فتح میں تبدیل کر دیا۔ لہذا گفتگو کے فن کو سیکھیں اور لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کریں۔

Sunday, 5 March 2023

جمہوریت مسائل کا انبار

 بہت سے دانشوروں نے جمہوریت کی کئی تعریفیں کی ہیں ان میں سے سب سے بہترین میری نظر میں امریکہ کے صدر ابراہم لنکن نے کی ہے۔ ابراہم لنکن کے مطابق "جمہوریت عوام کی، عوام کے لئے اور عوام کے ذریعے سے حکومت ہوتی ہے۔" اکثر و بہشتر جمہوریت کو اس بنیاد پر کسی بھی معاشرے میں پھیلایا جاتا ہے کہ اس کے ذریعے ایک عام آدمی تک کی بھی نمائندگی ممکن ہے۔ اس کے ذریعے سے کسی ملک میں بسنے والی عوام کی مرضی کا حکمران منتخب ہو کر ملک و قوم کے مفادات کے لئے کام کرتا ہے اور بوقتِ ضرورت اس کا احتساب بھی ممکن ہے۔ اس نظام کے ذریعے اقلیتوں کا تحفظ بھی ممکن ہے۔ لیکن اگر ہم غور کریں تو یہ تمام تر دعوے محض خام خیالی پر مبنی ہیں کیوںکہ یہ مسائل کہ حل کرنے کے بجائے ان کو جنم اور پشت پناہی فراہم کرتا ہے۔


جمہوریت کے ذریعے عوام کی حقیقی نمائندگی ممکن نہیں

جمہوریت میں قانون سازی کا اختیار عام طور پر ایک مخصوص گروہ (پارلیمینٹ) کے پاس ہوتا ہے لہذا وہاں تک پہنچنا مفاد پرست لوگوں کی کوششوں کا محور بن جاتا ہے۔ تاکہ وہ ان اختیارات کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کر سکیں۔ اس کے لئے یہ لوگ کروڑوں روپے مختلف حلقوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ یہاں تک کے اگر اپنے مفاد کے لئے اگر سیاسی کارکنوں کی زندگیوں کا سودا بھی کرنا پڑے تو وہ دریغ نہیں کرتے۔ جبکہ عوام کی نمائندگی اور فلاح و بہبود ان کے لئے ثانوی حثیت رکھتا ہے۔ آج ہمارے ملک کے مضافاتی و دہی علاقوں کی اکثریت ایسے لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر مجبور پر جو ان پر جبر کے پہاڑ گراتے ہیں۔ اور ایک غریب کسان یا مزدور طبقہ سے تعلق رکھنے والا نہ تو الیکشن لڑنے کا سرمایا رکھتا ہے نہ ہی علاقے کے وڈیرے یا جاگیردار کو ناراض کر کے اپنی جان، مال اور عزت کو گوانا چاہتا ہے بالفرض اگر کوئی نر کا بچہ یہ جسارت کر بھی لے تو اس کا قَلع قَمع ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان کے جمہوری نظام کے ساتھ خاص نہیں۔ یہاں تک کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی اقتدار تک پہنچنے کے لئے سرمایہ دار ملٹی نیشنل کمپنیوں اور طاقتور لابیوں سے پیسہ اور سیاسی مدد درکار ہوتی ہے۔ ایوانِ اعلیٰ میں پہنچنے کے بعد ان کی اولین ترجیع ان ہی لابیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔ عراق کی جنگ اس بات کا ثبوت ہے جس میں امریکی حکومت نے عوام سے جھوٹ بول کر یہ جنگ لڑی اور اس کا فائدہ بش نواز امریکی کمپنیاں اٹھا رہی ہیں۔ لہذا اگر یہ کہا جاۓ جمہوریت کے ذریعے سے منتخب سیاستدان در حقیقت عوام کے نہیں بلکہ طاقتور لابیوں کے نمائندے ہوتے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔


جمہوریت میں حکمرانون کا حقیقی محاسبہ نہیں ہو سکتا

جمہوری نظام میں منتخب ارکانِ اسمبلی حسبِ منشا جب چاہیں قوانین میں تبدیلی کر کے چور راستے نکال لیتے ہیں اور اپنی ذات، پارٹی اور ناقص پالیسیوں کو عدالتی کاروائی سے آزاد کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 248 جمہوریت کے عین مطابق صدر، گورنر اور وزراء وغیرہ کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہونے سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔



جمہوریت میں عدل کی فراہمی اور اقلیتوں کا تحفظ ممکن نہیں

جمہوریت میں اکثریت ہی تمام فیصلے کرتی ہے۔ لہذا اکثریت اقلیت کی پرواہ کیے بغیر کئی ایسے فیصلے اور قانون سازی کرتے ہیں جس سے اقلیت کو دشواری کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ امریکہ میں اکثریت نے 26 اکتوبر 2001 کو مسلمان اقلیت کے خلاف پیٹریاٹ ایکٹ کے نام سے ظالمانہ قوانین جاری کیے تھے جس کے تحت کسی بھی شخص کو دہشت گردی کا الزام لگا کر غیر معینئہ مدت ک لیے جیل بھیجا جا سکتا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کو بغیر بتاۓ سالوں جیل میں رکھنا، "قومی سلامتی" کو جواز بنا کر ملزم کو اس الزام بتاۓ بغیر جیل بھیج دینا اور اسے اپنی مرضی کے مطابق وکیل چننے کی بھی اجازت نہ دینا امریکہ کے "مہذب معاشرے" میں انصاف ہے کیونکہ یہ جمہوری اصولوں کے تحت کیا گیا ہے۔


اسی طرح آج جمہوری یورپ کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننا جرم ہے کیونکہ وہاں کی اکثریت کو یہ قابلِ قبول نہیں۔


جمہوریت انسانی مسائل کا درست حل پیش کرنے سے قاصر ہے

جمہوریت میں قانون سازی کا منبع انسانی عقل ہے۔ انسانی عقل محدود ہونے کی وجہ سے تمام تر معاملاتِ زندگی کے بارے میں صحیع حل پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آج مغرب اسقاطِ حمل، کلوننگ، ترس کھا کر قتل کرنا (مَرسی کِلینگ) وغیرہ جیسے معاملات پر حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا کیونکہ عقل اس امر کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی۔ مغرب نے اس انسانی کمزوری کو جمہوری فلسفہ پر ڈھالنے کی کوشش کی ہے کہ جو بھی فیصلہ اکثریت کا ہوگا اسے قبول کیا جاۓ گا اس بات سے بیزار ہو کر کے آیا وہ فیصلہ صحیع ہے یا غلط۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی معاشرہ آج اپنے مسائل حل کرنے کی تگ و دو میں شرفِ انسانیت سے گر چکا ہے۔

پاکستان میں آج سرمایہ دارانہ نظام اپنی بدترین شکل میں نافظ ہے۔

سمجھا ہے مسلماں اسے بس نامِ الیکشن
ہوتی ہے جہاں عقلِ شریعت پہ راۓ زن
جمہوریت وہ طرزِ حکومت ہے بے گماں
قانون بناتا ہے جہاں حضرتِ انساں
کرتا ہے زنا، سود اور جوۓ کو جو حلال
"کہتے ہیں جہاں میں اسے جمہورِ "با کمال"

Wednesday, 1 March 2023

اردو زبان پر انگریزی کے بڑھتے ہوئے اثرات

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں   ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتےہیں ؎


اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔ اردو اپنی ساخت، ذخیرہ الفاظ اور ہیئت کے اعتبار سے ایک ایسی زبان ہےکہ جس پر جتنا فخر کیا جاۓ کم ہے۔ اِس زبان میں اظہارِ خیال کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ اردو زبان میں دوسری زبان کے الفاظ کو اپنے اندر ضم کرنے کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نے اردو کی مقبولیت اور صلاحیت کے پیشِ نظر اسے پاکستان کی قومی زبان بنانا منظور کیا لیکن اردو زبان کو آج تک پاکستان میں وہ مقام حاصل نہ ہو سکا جس کی یہ حقدار ہے۔

اردو زبان پر انگریزی کے اثرات آج مرتب نہیں ہوئے۔ جب برصغیر پر انگریزوں کی حکومت قائم ہوئی تو انگریزی تہذیب کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان کے اثرات بھی برصغیر پر رونما ہوئے۔ انگریزوں نے فورٹ ولیم کالج قائم کیا اور اس کے تحت کئی اہم کتابوں کے تراجم کرائے جس سے برصغیر کے دانشوروں کو انگریزی زبان پڑھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ مزید برآں علی گڑھ تحریک کے زیر اثر سرسید احمد خان نے سائنٹفک سوسائٹی قائم کی جس کے تحت سائنس اور دیگر علوم کی شہرہ آفاق کتابوں کے تراجم کرائے گئے۔ جس سے انگریزی زبان سے واقفیت میں مزید اضافہ ہوا۔

اسی طرح اردو زبان میں انگریزی کے تراجم کے دوران بعض اصطلاحات کو انگریزی میں ہی استعمال کرنا پڑا جیسے فیڈریشن، اسٹوڈنٹ، لیکچر وغیرہ۔ اس طرح اردو زبان میں انگریزی زبان کے الفاظ کی شمولیت کی ابتداء ہوئی۔ اس کے بعد برصغیر میں اردو زبان کے ادیبوں میں بھی انگریزی زبان نے مقبولیت حاصل کی اور انہوں نے اپنے مضامین میں انگریزی زبان کا استعمال کرنا شروع کر دیا کیا اور پھر انگریزی زبان کے الفاظ کا استعمال اردو میں رائج ہو گیا۔ اردو ادب پر انگریزی کے اثرات کی بدولت لوگوں نے بول چال میں بھی انگریزی زبان کے الفاظ کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔

اس وقت پاکستان میں اردو زبان سے زیادہ انگریزی زبان کو مقبولیت حاصل ہے۔ اور یہ مقبولیت تمام صوبوں میں یکساں ہے۔ حتیٰ کہ قومی شناختی کارڈ کا اجراء بھی انگریزی زبان میں ہوتا ہے۔ لوگ اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ انہیں انگریزی بولنا آتی ہے۔ عام گفتگو میں لوگ اردو کے ساتھ انگریزی کے الفاظ ملا کر بات کرتے ہیں۔ درس و تدریس کے شعبے میں بھی اساتذہ مکمل انگریزی زبان کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔ دورِ حاضر میں اردو زبان میں انگریزی کے الفاظ ملا کر گفتگو کرنا ایک فیشن بن گیا۔ یہاں تک کہ وہ آدمی جس نے تعلیم حاصل نہ کی ہو وہ بھی انگریزی کے چند فِقرے بولنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ مائیں اپنے بچوں کویہ تعلیم دیتی ہیں کہ باہر اپنے سے بڑوں کو ”انکل“ یا ”آنٹی“ کہہ کر مخاطب کرو اور اس طرح بچے ایک معزز شخص یا خاتون کو انکل یا آنٹی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ یہاں تک جمعدار کو انکل کہہ دیتے ہیں اور ایک بھکارن ان کی آنٹی ہو جاتی ہے۔ آج کل انگریزی کے الفاظ اتنے عام ہوگئے ہیں کہ یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان کا استعمال صحیح طور پر کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ جیسے کسی کام کے خراب ہو جانے پر لفظ "شِٹ" یا "فَک" کا استعمال عام ہو گیا ہے۔

اردو زبان کی اپنی ایک چاشنی ہے۔ یہ وہ زبان ہے جس میں الفاظ کی کمی نہیں۔ اس میں ہر رشتے کی مناسبت سے لوگوں کو پوری تہذیب سے مخاطب کرنے کے لیے الفاظ موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری سطح پر جاری کیے جانے والے تمام کاغذات کو اردو زبان میں کیا جانا چاہیے۔ تعلیم کی فراہمی کے لیے ہر سطح پر اردو زبان کو استعمال کیا جائے۔ اردو زبان پر انگریزی کے بڑھتے ہوئے اثرات نقصان دہ ہیں کیونکہ اس سے اردو زبان کی اپنی خاصیت اور اس کے اپنے رنگ پر اثر پڑتا ہے۔ اس کی اپنی شناخت متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے لوگوں میں یہ شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اردو کو خالص طریقے سے بولنے کی کوشش کریں کریں تاکہ اردو زبان کا حق ادا ہو سکے۔

اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے




Tuesday, 21 February 2023

انسان کی افضلیت

 گزشتہ ہفتہ کو میں ایک تقریب میں اسٹیج سیکیٹری کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ پروگرام کے آخر میں ایک صاحب کو میں   نے دعا کروانے کے لئےاسٹیج  پر آنے  کی دعوت دی۔ اب جیسے ہی وہ اسٹیج  پر آئے تو انھوں نے دعا کروانے کے بجائے تقریر شروع کردی۔ مجھ سمیت شاید کئی لوگوں کو برا لگا ہو گا۔ لیکن ان کی گفتگو کافی غور طلب تھی۔ انھوں نے امام غزالی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تین طرح کی مخلوقات پیدا کیں ہیں۔ فرشتے، انسان اور حیوان۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو عقل تو دی لیکن شہوت نہیں دی اسی طرح حیوانات کو شہوت تو دی لیکن عقل نہیں دی۔ انسان وہ واحد مخلوق ہے جسے اللہ تعالیٰ نے شہوت کے ساتھ ساتھ عقل بھی دی ہے۔ انسان کی عقل جب اس کی شہوت پر غالب آ جائے تو وہ فرشتوں سے افضل ہو جاتا ہے۔ لیکن جب انسان کی شہوت اس کی عقل پر غالب آ جائے تو وہ جانوروں سے بھی  بدتر ہو جاتا ہے۔ 

ان کی گفتگو سن کر سامعین مختلف سوچوں میں گم ہو گئے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے دعا کروائی اور اسی کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔ اب ضرورت اس امر  کی ہے کہ ہم سب اپنا محاسبہ کریں کہ آیا ہم واقعی انسان  کہلانے کے لائق ہیں یا پھر ہم بھی حیوانات جیسی زندگی بسر کر رہے ہیں۔


 


Saturday, 18 February 2023

مسئلہ کشمیر

آج پچھتر سال گزرنے کے بعد بھی مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے ہم اقوامِ متحدہ کی طرف دیکھتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ اقوامِ متحدہ کا کردار محض مردہ قراردادیں منظور کرنے سے زیادہ کچھ نہیں۔

یہ چند کروڑ یہودی جن کی جڑیں پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں ہمارے ازلی دشمن ہیں۔ قرآن کریم میں بھی ارشاد خداوندی ہے کہ یہود و نصارٰی کبھی تمھارے دوست نہیں بن سکتے۔ یہ تو چاہتے ہی نہیں ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہو اور مسلمان آزادی سے ہیں۔ اب بھی اگر امت مسلمہ اقوامِ متحدہ سے امیدیں باندھتی ہے تو وہ شاعر کے اس شعر کے مترادف ہوگا۔

؎  میر بھی کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
    اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

بحیثیت طالبِ علم ہمیں چاہیے کہ ہم اس چیز کا مطالعہ کریں کہ :
مسئلہ کشمیر دو ممالک کے مابین محض ایک زمینی ٹکڑے کا تضاد ہے یا کچھ اور بھی معاملات ہیں؟
مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کیا ہے اور ماضی میں کیا رہی ہے؟
مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے دوست و دشمن ممالک کا کیا کردار رہا ہے؟
مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے او آئی سی کا کیا موقف ہے؟
مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے اقوامِ متحدہ کا کیا موقف ہے اور ماضی میں کیا کردار رہا ہے؟
کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا آزاد اور خودمختار ریاست؟

اس حوالے سے اگر ہمارا وسیع مطالعہ ہوگا تو ہی ہم آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے ورنہ ہر سال کی طرح آئندہ سال بھی کشمیر پر فلمیں اور گانے ریلیز ہوتے رہیں گے اور روایتی تقاریر ہوتی رہیں گی جنہیں سن کر ہم تالیاں بجاتے رہیں گے اور وہاں کشمیریوں پر  یونہی ظلم و بربریت جاری رہے گی۔





Sunday, 12 February 2023

غور و فکر کی دعوت قراٰن حکیم کی روشنی میں

 غور و فکر کی دعوت قراٰن حکیم کی روشنی میں


إِنَّ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَـٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّأُو۟لِى ٱلْأَلْبَـٰبِ

بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور دن اور رات کی تبدیلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے۔

؎ کوئی دیکھے تو ہے باریک فطرت کا حجاب اتنا
نمایاں ہیں فرشتوں کے تبسّم ہائے پِنہانی
یہ دنیا دعوتِ دیدار ہے فرزندِ آدم کو
کہ ہر مستور کو بخشا گیا ہے ذوقِ عُریانی
اقبال

اگر کوئی عمیق نظروں سے فطرت کا مطالعہ اور مشاہدہ کرے تو فطرت کے حجابات میں فرشتوں کی مسکراہٹ بھی نظر آۓ۔ دنیا میں انسان کو فطرت کو دیکھنے اور اس میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ھے کہ انسان اس میں چھپی صلاحیتوں کو ڈھونڈ کر آشکار کر دے کیوںکہ قدرت نے ہر پوشیدہ چیز میں اپنے آپ کو عریاں کرنے کا جذبہ اور ذوق پیدا کیا ہے۔
حضرت سیدنا ابنِ عمیر رضی اللہ عنہ نے ام المئومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے عرض کی آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی انوکھی بات بتائیے جو آپ نے دیکھی ہو؟ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنھا رونے لگیں اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر معاملہ عجیب تھا ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ آرام فرما رہے تھے یہاں تک کہ آپ کے جسم کے ساتھ میرا جسم مس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مجھے اپنے رب کی عبادت کرنے دو"۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشکیزے کی طرف تشریف لے گئے اس سے وضو فرمایا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور اس قدر روئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی تر ہو گئی، پھر سجدہ کیا یہاں تک کہ زمین تر ہو گئی۔ اس کے بعد پہلو میں آرام فرما ہو گئے حتیٰ کے حضرت بلال علیہ سلام نے حاضر ہو کر نماز فجر کی اطلاع دی اور عرض کی "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیوں رو رہے ہیں؟ حالاںکہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب آپ کے اگلے پچھلوں کے گناہ معاف فرما دیئے ہیں"۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال! تجھ پر افسوس! میں کیوں نہ روؤں آج رات مجھ پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ہے
" إِنَّ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَـٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّأُو۟لِى ٱلْأَلْبَـٰبِ "
(بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور دن اور رات کی تبدیلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے۔)
پھر فرمایا " اس شخص کے لئے خرابی ہے جو اس آیتِ کریمہ کو پڑھے لیکن اس میں غور نہ کرے۔
اگر ہم غور کریں آسمان و زمین کی تخلیق، آسمان کی بلندی، اس میں چمکتے ہوئے ستارے، اس کا بغیر ستونوں کے قائم ہونا، سورج چاند، ستاروں کے ذریعے اس کی زینت سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ یونہی زمین اور اس کی وسعت، اس میں موجود پہاڑ، معدنیات، جواہرات، اس میں رواں سمندر، دریا، چشمے ، اس سے اگنے والے درخت، سبزہ، پھل، پھول، نباتات، شب و روز کا آنا جانا، دن رات کا چھوٹا بڑا ہونا، سمندر میں بھاری بوجھ کے باوجود کشتیوں کا تیرنا، لوگوں کا اس میں سوار ہونا، سمندری عجائبات، ہواؤں کا چلنا،سمندر کے ذریعے مشرق و مغرب میں تجارت کرنا، سمندر سے بخارات کا اٹھنا، بارش کی صورت میں برسنا، بارش سے خشک اورمردہ زمین کا سر سبزوشاداب ہوجانا، اس پانی اور اس کے ثمرات سے زندگی میں باغ و بہار آنا، زمین میں کروڑوں قسم کے حیوانات کا ہونا ،ہواؤں کی گردش، ان کے خواص و عجائبات ،یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت اور اس کی قدرت و وحدانیت پر عظیم دلیلیں ہیں۔
کسی زمانے میں آنکھ کو صرف دیکھنے کا ایک آلہ سمجھا جاتا تھا اور علمی ترقی کے ساتھ ساتھ آنکھ کے ایسے ایسے ظاہری و باطنی، جسمانی و روحانی عجائبات سامنے آرہے ہیں کہ اب صرف آنکھ سے متعلقہ علوم کی اقسام نہ جانے کتنی ہیں اور لاکھوں لوگ اس علم کے ماہر ہونے کے باوجوداس بات کا دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ہم نے آنکھ سے متعلق ہر چیز کا علم حاصل کرلیا ہے۔
اس آیت مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سائنسی علوم بھی معرفت ِ الٰہی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جتنا سائنسی علم زیادہ ہوگا اتنی ہی اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کی پہچان زیادہ ہوگی، لہٰذا اگر کوئی دینِ اسلام کی خدمت اور اللہ تعالیٰ کی معرفت کی نیت سے سائنسی علوم سیکھتا ہے تو یہ بھی عظیم عبادت ہوگی نیز اللہ تعالیٰ نے جو کائنات میں غور و فکر کا حکم دیا ہے یہ اس حکم کی تعمیل بھی قرار پائے گی۔