اکڑ، تکبر اور انا وہ ناسور ہیں جو انسان کو بام عروج سے تنزلی کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔ یہ انا اور تکبر ہی تھا جس نے عزازیل کو حکم عدولی کی جرأت دی۔ اس کی انا اور ”میں“ غالب آگئی اور یہ اکڑ گیا۔ اور پھر رب کائنات نے اس کو عزازیل سے شیطان اور مردود بنا ڈالا۔ جب کسی شخص میں انا، تکبر اور غرور آ جائے تو اسے اپنی ذات کے سوا کچھ نہیں دیکھائی دیتا کیونکہ وہ خود پسندی کے مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ انسان میں غرور و تکبر کس بات کا ہوتا ہے ان وقتی عہدوں کا جو آج ہیں کل نہیں، اپنے حسن اور جوانی پر غرور جو عمر ڈھلنے کے ساتھ ہی ماند پڑ جاتی ہے۔ مال و دولت پر غرور جو فانی ہے یہی رہ جانا ہے۔
جب کوئی مغرور بن کر بات کرتا ہے تو مجھے نہ جانے کیوں پیر نصیر الدین شاہ صاحب کا یہ شعر یاد آتا ہے۔
اتنا مت اکڑ، نہ اتنے جذبات میں رہ
حد سے نہ گزر، دائرہ ذات میں رہ
اک قطرہ ناپاک نسب ہے تیرا
یہی اوقات ہے تیری، اوقات میں رہ
غرور صرف اس خداۓ لم یزل کو زیب دیتا ہے جو اپنی صفات میں یکتا ہے۔ اس کی تمام صفات ذاتی ہیں اور ہم انسانوں کی تمام صفات عطائی ہیں۔ اس لئے خداۓ بزرگ و برتر کو ہمارا غرور اور تکبر کرنا سخت ناپسند ہے۔ اس لئے انسان کو چاہئے اپنی اصل نہ بھولے۔ ورنہ اس ذات کی ایک صفت قہار بھی ہے۔ سو محبت بانٹیں اور مخلوق خدا کے کاموں میں رکاوٹیں ڈالنے کے بجاۓ دست بازو بنیں۔
بعض اوقات ہمارے کچھ دانشور حضرات اپنی ”انا“ کو ”خودی“ سمجھتے ہیں۔ یہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ ان دونوں کے فرق کو جان کے جیو۔ انا انسان کو خود پرست بنا دیتی ہے۔ اس کے باعث انسان خود کو برتر اور سامنے والے کو کم تر سمجھتا ہے۔ یہ ناچاقیوں اور جھگڑوں کو جنم دیتی ہے۔ جبکہ ”خودی“ نام ہے خود شناسی کا، خود کو سمجھنے کا، اپنی صلاحیتوں اور اختیارات کو جاننے کا اور اپنی حدود کا تعین کرنے کا۔ خودی تو یہ ہے کہ انسان دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاۓ، اپنے قوت بازو سے اپنے حالات بدلنے کی سعی کرے۔ خودی وہ عظمت ہے جس نے انسان کو اشرف المخلوقات کے منصب سے نوازا۔ آخر میں بس یہی کہوں گا کہ
فنا کر کے انا کو جاوداں ہو جا
خودی پا کر تو بحر بے کراں ہو جا
دوام زندگی چاہئے تو اے انساں
نکل کر ذات سے عیاں ہو جا

No comments:
Post a Comment