غور و فکر کی دعوت قراٰن حکیم کی روشنی میں
إِنَّ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَـٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّأُو۟لِى ٱلْأَلْبَـٰبِ
بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور دن اور رات کی تبدیلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے۔
نمایاں ہیں فرشتوں کے تبسّم ہائے پِنہانی
یہ دنیا دعوتِ دیدار ہے فرزندِ آدم کو
کہ ہر مستور کو بخشا گیا ہے ذوقِ عُریانی
اقبال
اگر کوئی عمیق نظروں سے فطرت کا مطالعہ اور مشاہدہ کرے تو فطرت کے حجابات میں فرشتوں کی مسکراہٹ بھی نظر آۓ۔ دنیا میں انسان کو فطرت کو دیکھنے اور اس میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ھے کہ انسان اس میں چھپی صلاحیتوں کو ڈھونڈ کر آشکار کر دے کیوںکہ قدرت نے ہر پوشیدہ چیز میں اپنے آپ کو عریاں کرنے کا جذبہ اور ذوق پیدا کیا ہے۔
حضرت سیدنا ابنِ عمیر رضی اللہ عنہ نے ام المئومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے عرض کی آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی انوکھی بات بتائیے جو آپ نے دیکھی ہو؟ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنھا رونے لگیں اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر معاملہ عجیب تھا ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ آرام فرما رہے تھے یہاں تک کہ آپ کے جسم کے ساتھ میرا جسم مس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مجھے اپنے رب کی عبادت کرنے دو"۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشکیزے کی طرف تشریف لے گئے اس سے وضو فرمایا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور اس قدر روئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی تر ہو گئی، پھر سجدہ کیا یہاں تک کہ زمین تر ہو گئی۔ اس کے بعد پہلو میں آرام فرما ہو گئے حتیٰ کے حضرت بلال علیہ سلام نے حاضر ہو کر نماز فجر کی اطلاع دی اور عرض کی "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیوں رو رہے ہیں؟ حالاںکہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب آپ کے اگلے پچھلوں کے گناہ معاف فرما دیئے ہیں"۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال! تجھ پر افسوس! میں کیوں نہ روؤں آج رات مجھ پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ہے
" إِنَّ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَـٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّأُو۟لِى ٱلْأَلْبَـٰبِ "
(بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور دن اور رات کی تبدیلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے۔)
پھر فرمایا " اس شخص کے لئے خرابی ہے جو اس آیتِ کریمہ کو پڑھے لیکن اس میں غور نہ کرے۔
اگر ہم غور کریں آسمان و زمین کی تخلیق، آسمان کی بلندی، اس میں چمکتے ہوئے ستارے، اس کا بغیر ستونوں کے قائم ہونا، سورج چاند، ستاروں کے ذریعے اس کی زینت سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ یونہی زمین اور اس کی وسعت، اس میں موجود پہاڑ، معدنیات، جواہرات، اس میں رواں سمندر، دریا، چشمے ، اس سے اگنے والے درخت، سبزہ، پھل، پھول، نباتات، شب و روز کا آنا جانا، دن رات کا چھوٹا بڑا ہونا، سمندر میں بھاری بوجھ کے باوجود کشتیوں کا تیرنا، لوگوں کا اس میں سوار ہونا، سمندری عجائبات، ہواؤں کا چلنا،سمندر کے ذریعے مشرق و مغرب میں تجارت کرنا، سمندر سے بخارات کا اٹھنا، بارش کی صورت میں برسنا، بارش سے خشک اورمردہ زمین کا سر سبزوشاداب ہوجانا، اس پانی اور اس کے ثمرات سے زندگی میں باغ و بہار آنا، زمین میں کروڑوں قسم کے حیوانات کا ہونا ،ہواؤں کی گردش، ان کے خواص و عجائبات ،یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت اور اس کی قدرت و وحدانیت پر عظیم دلیلیں ہیں۔
کسی زمانے میں آنکھ کو صرف دیکھنے کا ایک آلہ سمجھا جاتا تھا اور علمی ترقی کے ساتھ ساتھ آنکھ کے ایسے ایسے ظاہری و باطنی، جسمانی و روحانی عجائبات سامنے آرہے ہیں کہ اب صرف آنکھ سے متعلقہ علوم کی اقسام نہ جانے کتنی ہیں اور لاکھوں لوگ اس علم کے ماہر ہونے کے باوجوداس بات کا دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ہم نے آنکھ سے متعلق ہر چیز کا علم حاصل کرلیا ہے۔
اس آیت مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سائنسی علوم بھی معرفت ِ الٰہی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جتنا سائنسی علم زیادہ ہوگا اتنی ہی اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کی پہچان زیادہ ہوگی، لہٰذا اگر کوئی دینِ اسلام کی خدمت اور اللہ تعالیٰ کی معرفت کی نیت سے سائنسی علوم سیکھتا ہے تو یہ بھی عظیم عبادت ہوگی نیز اللہ تعالیٰ نے جو کائنات میں غور و فکر کا حکم دیا ہے یہ اس حکم کی تعمیل بھی قرار پائے گی۔

No comments:
Post a Comment