آج پچھتر سال گزرنے کے بعد بھی مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے ہم اقوامِ متحدہ کی طرف دیکھتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ اقوامِ متحدہ کا کردار محض مردہ قراردادیں منظور کرنے سے زیادہ کچھ نہیں۔
یہ چند کروڑ یہودی جن کی جڑیں پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں ہمارے ازلی دشمن ہیں۔ قرآن کریم میں بھی ارشاد خداوندی ہے کہ یہود و نصارٰی کبھی تمھارے دوست نہیں بن سکتے۔ یہ تو چاہتے ہی نہیں ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہو اور مسلمان آزادی سے ہیں۔ اب بھی اگر امت مسلمہ اقوامِ متحدہ سے امیدیں باندھتی ہے تو وہ شاعر کے اس شعر کے مترادف ہوگا۔
؎ میر بھی کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
بحیثیت طالبِ علم ہمیں چاہیے کہ ہم اس چیز کا مطالعہ کریں کہ :
مسئلہ کشمیر دو ممالک کے مابین محض ایک زمینی ٹکڑے کا تضاد ہے یا کچھ اور بھی معاملات ہیں؟
مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کیا ہے اور ماضی میں کیا رہی ہے؟
مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے دوست و دشمن ممالک کا کیا کردار رہا ہے؟
مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے او آئی سی کا کیا موقف ہے؟
مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے اقوامِ متحدہ کا کیا موقف ہے اور ماضی میں کیا کردار رہا ہے؟
کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا آزاد اور خودمختار ریاست؟
اس حوالے سے اگر ہمارا وسیع مطالعہ ہوگا تو ہی ہم آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے ورنہ ہر سال کی طرح آئندہ سال بھی کشمیر پر فلمیں اور گانے ریلیز ہوتے رہیں گے اور روایتی تقاریر ہوتی رہیں گی جنہیں سن کر ہم تالیاں بجاتے رہیں گے اور وہاں کشمیریوں پر یونہی ظلم و بربریت جاری رہے گی۔

No comments:
Post a Comment