Thursday, 1 June 2023

علم کی فضیلت اور اس کے تقاضے

علم کے لغوی معنی "جاننا" کے ہیں۔ کسی چیز کی ماہیت یا حقیقت دریافت کرنا، اس کے فوائد اور نقصانات سے واقف ہونا، مقام استعمال کا جاننا اور مناسب موقع پر اس سے مستفید ہونے کا نام علم ہے۔ قران پاک میں کئی مقامات پر اللہ تعالی نے علم اور اہل علم کا  ذکر فرمایا ہے۔ سورہ اٰل عمران میں  اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے  

شَهِدَ اللّهُ أَنَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ وَالْمَلاَئِكَةُ وَأُوْلُواْ الْعِلْمِ قَآئِمَاً بِالْقِسْطِ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور عالموں نے انصاف سے قائم ہوکر اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا۔

اس آیت پر اگر ہم غور کریں تو اللہ تعالی نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اللہ تعالی نے اپنی اس گواہی میں فرشتوں کے ساتھ ساتھ اہل علم کی گواہی کو بھی ملایا ہے۔ تو اس سے پتا چلا کہ اہل علم بڑی عزت و عظمت والے ہیں کہ رب تعالی نے ان کو اپنے ساتھ اپنی توحید کا گواہ بنا دیا۔

اللہ تعالی کا یہ احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمیں راہ علم کا مسافر بنایا۔ علم حاصل کرنے کے معاملے میں ہمیں کسی قسم کی شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ ابن ماجہ کتاب الطھارہ میں ہے کہ انصار کی ایک صحابیہ حضرت سیدنا اسماء رضی اللہ عنھا نے رسول اللہ ﷺ سے ماہواری کے غسل کے متعلق دریافت کیا تو آپ ﷺ نے اس کا تفصیلی طریقہ ارشاد فرمایا۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے ارشاد فرمایا کہ انصار کی خواتین بھی کیا خوب ہیں کہ دین کے احکام سیکھنے میں شرم و جھجک ان کے آڑے نہیں آتی۔

امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے بخاری شریف میں علم میں حیا سے متعلق ایک باب باندھا اور اس کا آغاز اس قول سے کیا

لا يتعلم العلم مستحي ولا مستكبر

حصول علم میں شرم کرنے والا اور تکبر کرنے والا کبھی علم حاصل نہیں کرسکتا

لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ سیکھتے وقت شرم و جھجک کو آڑے نہ آنے دیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے اندر علم حاصل کرنے کی جستجو اور تڑپ کو ہمیشہ زندہ رکھیں چاہے کسی بھی مقام پر پہنچ جائیں کیونکہ اللہ تعالی نے  ہم انسانوں کو اپنی تمام مخلوقات پر فضیلت بخشی ہے تو وہ علم ہی کی بدولت ہے ورنہ ہم خاک کے ذروں کی کیا اوقات کے ہمیں اشرف المخلوقات کے تخت سے نوازا جاتا۔

میرے ایک ٹیچر یہ کہا کرتے تھے کہ علم حاصل کرنے کے لیئے تین چیزوں کا ادب کرنا بہت ضروری ہے جس سے ،جس کو، جس جگہ۔ جس سے پڑھتے ہو مطلب ہمارے اساتذہ اکرام،  جس کو پڑھتے ہو یعنی ہماری کتابیں اور جس جگہ پڑھتے ہیں یعنی اسکول، کالج، مدرسہ یا جامعہ وغیرہ۔

بحیثیت طالب علم ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے علم پر تکبر نہ کریں اور استاد کے حکم پر سر تسلیم خم کریں۔ امام غزالی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک طالبعلم کو چاہیے کہ وہ اپنی لگام استاد کے ہاتھوں میں دے دے جیسے قریب المرگ مریض دوا کے معاملے میں اپنا اختیار طبیب کو دے دیتا ہے۔

مزید براںہمیں بحیثیت طالبعلم اساتذہ کی خدمت کے لیئے ہر وقت کمر بستہ رہنا چاہیے اور اس بات سے بیزار ہو جائیں کہ کوئی ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے کیونکہ آج کل کالج و یونیورسٹیز میں یہ ٹرینڈ بن گیا ہے کہ وہ بچہ جو پروفیسر کا ادب کرے، استاد کے کلاس میں داخل ہونے پر کھڑے ہو کر استقبال کرے یا کہیں سے گزرتے وقت آگے بڑھ کر سلام کرے تو اس کو دیگر طلباء عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں جیسے اس نے نا جانے کتنا بڑا گناہ کر دیا ہو۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اس بچہ کو خوشآمدی کہہ کہہ کر اس کی یونیورسٹی یا کالج کی زندگی اجیرن بنا دیتے ہیں۔ لیکن قارئین محترم ہمیں ان سب چیزوں کو نظرانداز کر کے اساتذہ کی تکریم میں کسی قسم کی کمی کو نہیں آنے دینا۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا

ليس من اخلاق المؤمن الملق الا في طلب العلم

مومن کہ اخلاق میں سے خوشآمد کرنا نہیں مگر علم حاصل کرنے کے لئے کرسکتا ہے۔  


شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ

قسم ہے شان وحدت کی تجھے آباد کر دے گا

ادب استاد کا ایک دن تجھے استاد کر دے گا

 

آخر میں اللہ تعالی سے دعاگو ہوں کہ وہ ہمیں علم نافہ عطا فرمائے اور علم حاصل کرنے کے  بعد صدق دل سے ملک و قوم کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اٰمین

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پَر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

و سلام